جامعہ ایمرسن:من پسند بھرتیوں کیلئے نئی حکمت عملی: سنڈیکیٹ کی جانب سے غیر ضروری قرار دیا جانیوالاسلیکشن بورڈ اجلاس دوبارہ طلب

“ایمرسن یونیورسٹی میں بھرتیوں کی نئی حکمت عملی، سنڈیکیٹ کی منظوری کے بغیر سلیکشن بورڈ تشکیل دینے کی کوشش”

ملتان ( بیٹھک انویسٹی گیشن سیل ) جامعہ ایمرسن کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان گجراور رجسٹرار محمد فاروق کی من پسند افراد کو بھرتی کرنے کیلئے نئی حکمت عملی ۔ سنڈیکٹ کی جانب سے غیر ضروری قرار دیکر ملتوی کئے جانے والے سلیکشن بورڈ کو 10، 11 جولائی کو دوبارہ منعقد کرنے کا ایجنڈا جاری کردیا گیا۔
، کورم پورا کرنے کے لیے سابق ممبر سلیکشن بورڈ ڈاکٹر زاہد حسین کھنڈ کو اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے بلایا جا رہا ہے۔اس ضمن میں ذرائع کا کہنا ہے کہ سنڈیکیٹ کی طرف سے دو ممبر سلیکشن بورڈ نامزد ہونے ہوتے ہیں۔اس کی روشنی میں سابقہ سنڈیکیٹ نے پروفیسر ڈاکٹر حیات محمد اعوان اور ڈاکٹر زاہد حسین کھنڈ کو نامزد کیا تھا ۔
لیکن جس سینڈیکیٹ نے جس سلیکشن بورڈ کے لیے نامزد کیا تھا وہ سینڈیکیٹ اور سلیکشن بورڈ دونوں کی مدت ختم ہو چکی ہے نئے سنڈیکیٹ کے نئے سلیکشن بورڈ کے لیے ابھی کسی ممبر کو نامزد نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن وی سی و رجسٹرا نے ڈاکٹر زاہد حسین کھنڈ کا نام نئے سلیکشن بورڈ میں بغیر منظوری کےاپنے مذموم مقاصد کے لیے ڈالا ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وی سی،رجسٹرار کو از خود ممبران نامزد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ دوسری طرف جن مضامین میں بھرتیاں کی جا رہی ہیں ان میں پہلے سے موجود اساتذہ کا ورک لوڈ پورا نہ ہے اور نہ ہی ان مضامین میں داخلے ہوئے ہیں۔جس پر جامعہ کے سینئر اساتذہ نے مذکورہ شعبوں میں نئی بھرتیوں پر شدید اعتراض اٹھاتےہوئے احتجاج کیا ہے ۔
ایمرسن ایلومینائ،ایمرسن تحریک بچاؤ اور سول سوسائٹی نے ایمرسن کو دیوالیہ اور خسارے میں دھکیلنے کے مبینہ مرتکب وائس چانسلر و رجسٹرار کیخلاف متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ مجوزہ غیر قانونی سلیکشن بورڈ کو فی الفور ملتوی کیا جائے۔
وسیب،ساؤتھ پنجاب بالخصوص ایمرسن دشمن وی سی اور غیر قانونی رجسٹرار کو فی الفور برطرف کیا جائے اور اعلی سطحی غیر جانبدار انکوائری کمیٹی کی تشکیل دی جائے۔

یوٹیوٹ کی ویڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں