ایران احتجاج میں ہلاکتیں 500 سے تجاوز کر گئیں، انسانی حقوق تنظیم

ایران: احتجاج میں مرنے والوں کی تعداد 500 سے بڑھ گئی: انسانی حقوق تنظیم کا دعویٰ

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ نے کہا ہے کہ ایران میں شورش کے باعث مرنے والوں کی تعداد 500 سے بڑھ گئی ہے۔
روئٹرز کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی علما پر مشتمل اسٹیبلشمنٹ کو 2022 کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے مظاہروں کا سامنا ہے اور صدر ٹرمپ کئی بار دھمکی دے چکے ہیں۔
کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی گئی تو امریکہ مداخلت کرے گا۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس ان ایران (ھرانا) جو ایران کے اندر اور باہر کارکن رکھتی ہے۔
، اس نے 490 مظاہرین اور 48 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ ایک ہزار 600 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
روئٹرز کا کہنا ہے کہ وہ ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج عوام کا حق ہے مگر فساد برپا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
، امریکا اور اسرائیل فسادات پھیلا رہے ہیں، عوام ان سے دور رہیں۔

خبر کی تفصیل کے لیے لنک پر کلک کریں۔