جہیز واپسی کیس اسلام آباد ہائیکورٹ فیصلہ، 2 ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم

اسلام آبادہائیکورٹ کا فیملی کورٹ کو جہیز واپسی کی درخواست پر 2 ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم

شوہر سے علحیدگی کے بعد جہیز کی واپسی سے متعلق اسلام آباد ہائی کا بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے۔اسلام آبادہائیکورٹ نےفیملی کورٹ اورڈسٹرکٹ کورٹ کےفیصلے کالعدم قرار دے دیئے۔
،عدالت نے فیملی کورٹ کو جہیز واپسی کی درخواست پر 2 ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا،عدالت کی خواتین کےمالی حقوق کے تحفظ اور مؤثر نفاذ کے لیے قانون سازی کی ہدایت دیدی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے 28 صفحات پرمشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا،فیصلے میں اسلامی قوانین،قرآنی آیات اورغیرملکی عدالتوں کے فیصلوں کے حوالے دئیے گئے۔
فیصلےمیں کہا گیا کہ اپیلٹ کورٹ نے غلطی کی اور درخواست گزار بیوی کے حقوق سے انکار کیا۔
،شراکت داری ثابت ہو تو شادی کے دوران حاصل جائیداد میں بیوی کا حق تسلیم کیا جاسکتا ہے۔
،جہیز اور دلہن کے ذاتی تحائف مکمل طور پر خاتون کی ہی ملکیت ہوتے ہیں،جہیز کا سامان واپس نہ ہونے کی صورت میں خاتوں متبادل قیمت وصول کرسکتی ہے۔

خبر کی تفصیل کے لیے لنک پر کلک کریں۔