امریکی فوجی عدالت نے نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے اعترافی بیانات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ناقابلِ قبول قرار دے دیا۔امریکی ملٹری جج کے مطابق خالد شیخ محمد کی جانب سے ایف بی آئی اہلکاروں کے سامنے دیے گئے اعترافات رضاکارانہ نہیں تھے۔
عدالت نے قرار دیا کہ یہ بیانات سی آئی اے کی جانب سے مبینہ تشدد کے بعد حاصل کیے گئے، اس لیے انہیں مقدمے میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا۔فوجی عدالت نے امریکی استغاثہ کو فیصلے کے خلاف اپیل کے امکان پر غور کرنے کے لیے پانچ روز کی مہلت دی ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد مقدمے میں استغاثہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے اہم شواہد کی حیثیت متاثر ہونے کا امکان ہے۔نائن الیون حملوں سے متعلق مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع کرنے کے لیے 5 جون 2028 کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔واضح رہے کہ خالد شیخ محمد پر 11 ستمبر 2001 کو امریکا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔