ایران کے ساتھ جنگ جاری رہنے کی صورت میں امریکا کو ہر ماہ مزید 2 سے 3 ارب ڈالر کے اخراجات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جبکہ استعمال کیے گئے میزائلوں کے ذخیرے کو دوبارہ مکمل کرنے میں کم از کم پانچ سال لگنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی کانگریس بجٹ آفس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نے امریکی دفاعی بجٹ اور ہتھیاروں کے ذخائر پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے۔ 
رپورٹ کے مطابق امریکا اب تک ایران جنگ پر تقریباً 38 ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے۔کانگریس بجٹ آفس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ مزید جاری رہی تو امریکا کے ماہانہ اخراجات میں 2 سے 3 ارب ڈالر تک اضافہ ہوسکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق جنگ کے نتیجے میں امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
جون 2025 سے امریکا اپنے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخیرے کا تقریباً نصف سے دو تہائی حصہ استعمال کرچکا ہے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق وائٹ ہاؤس نے جنگ سے متعلق اخراجات پورے کرنے کے لیے امریکی کانگریس سے مزید 70 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز طلب کیے ہیں۔