امریکی پابندیوں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور جنگ کے اثرات کے باعث ایران میں ادویات کی قلت مزید سنگین ہوگئی ہے، جس سے مریضوں اور فارمیسیز کو مشکلات کا سامنا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق ادویات کی دستیابی متاثر ہونے کے باعث بعض مریض اپنی خوراک کم کرنے، علاج مؤخر کرنے یا نسبتاً سستی اور کم مؤثر ادویات استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی پابندیوں اور جنگ کے اثرات سے تقریباً 800 اقسام کی ادویات متاثر ہوئی ہیں، جبکہ فارمیسیز کو مالی مسائل بھی درپیش ہیں۔ انشورنس کمپنیوں کے ذمے فارمیسیز کے تقریباً 30 کروڑ ڈالر واجب الادا ہیں۔ایران حجم کے اعتبار سے اپنی 97 فیصد سے زائد ادویات مقامی طور پر تیار کرتا ہے۔
، تاہم کئی اہم ادویات اور دواسازی میں استعمال ہونے والے خام مال کے لیے اب بھی درآمدات اور غیر ملکی کرنسی پر انحصار کیا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق امریکی پابندیاں مالی لین دین کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں، جس کے باعث غیر ملکی بینک اور سپلائرز ایرانی خریداروں کے ساتھ کاروباری معاملات سے گریز کرتے ہیں۔
، اگرچہ ادویات پر عمومی طور پر براہِ راست پابندیاں عائد نہیں ہیں۔رپورٹ کے مطابق رواں سال کے آغاز میں ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں نے بھی ایران کے ادویات کے شعبے کو متاثر کیا۔ حملوں کے نتیجے میں 40 سے زائد دوا ساز کمپنیوں، سپلائرز اور تقسیم کار اداروں کو نقصان پہنچا، جس سے ادویات کی فراہمی کا بحران مزید بڑھ گیا۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔