کراچی: مبینہ بیٹنگ معاہدے مسترد کرنے والے قومی کرکٹر محمد رضوان بھی آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق تحقیقات کی زد میں آگئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق محمد رضوان نے ماضی میں 10 کروڑ روپے کی مبینہ بیٹنگ اسپانسرشپ ڈیل قبول کرنے سے انکار کیا تھا اور اپنی کِٹ پر بیٹنگ اسپانسر کا لوگو لگانے سے بھی گریز کیا تھا۔ذرائع کے مطابق تحقیقات کے لیے جاری کیے گئے نوٹس میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم کسی مخصوص جرم یا میچ کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لندن میں محمد رضوان کا موبائل فون تحویل میں لیے جانے اور اسے پاکستان منتقل کرنے سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے، تاہم تحقیقات کے طریقہ کار پر متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔
’دی نیوز انٹرنیشنل‘ کی سابقہ رپورٹس کے مطابق محمد رضوان نے سابق کپتان بابر اعظم کے ہمراہ پاکستان میں سرگرم مبینہ سرواگیٹ بیٹنگ کمپنیوں کی پیشکشوں کی مخالفت کی تھی۔دستاویزی خط و کتابت کے حوالے سے رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرواگیٹ بیٹنگ برانڈز نے پاکستانی کرکٹ کے معروف کھلاڑیوں کو بھاری مالیت کے اسپانسرشپ معاہدوں کی پیشکش کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق بابر اعظم نے سالانہ 25 کروڑ روپے جبکہ محمد رضوان نے ایک سرواگیٹ بیٹنگ ادارے کی جانب سے 10 کروڑ روپے کی مبینہ پیشکش مسترد کی تھی۔دونوں کھلاڑیوں کی مینجمنٹ ایجنسیوں کے ذریعے بھیجے گئے مراسلات میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ وہ بحیثیت مسلمان بیٹنگ یا سرواگیٹ بیٹنگ برانڈز کی تشہیر نہیں کرتے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے دوران ملتان سلطانز کی قیادت کرتے ہوئے محمد رضوان نے مبینہ طور پر سرواگیٹ بیٹنگ اسپانسر کا لوگو اپنی کھیلوں کی کِٹ پر لگانے سے بھی انکار کیا تھا۔