امریکی قدامت پسند مبصر اور ٹرمپ کے ناقد ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اسرائیل کو 2 ہزار پاؤنڈ وزنی 40 ہزار بم فراہم کرنے جا رہا ہے، جسے انہوں نے ’’تحفہ‘‘ قرار دیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کے لیے تقریباً 2.8 ارب ڈالر کے ایک پیکیج کی منظوری دی ہے، جس میں 40 ہزار 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم شامل ہیں۔
پیکیج میں 20 ہزار ایم کے 84 اور 20 ہزار بی ایل یو 117 بم شامل ہیں۔ٹکر کارلسن نے نیشنل پبلک ریڈیو سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیل ان ہتھیاروں کے لیے براہِ راست رقم ادا نہیں کر رہا، بلکہ خریداری امریکی فوجی معاونت کے ذریعے ہونے کی وجہ سے اس کی ادائیگی امریکی حکومت کرے گی۔ انہوں نے اسی بنیاد پر اسے ’’تحفہ‘‘ قرار دیا۔
کارلسن نے ان بموں کی تباہ کن صلاحیت کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مجموعی طور پر ان کی تباہی کی طاقت ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم سے کئی گنا زیادہ ہے۔ تاہم یہ موازنہ ان کا بیان کردہ تخمینہ ہے، جسے آزادانہ طور پر اسی شکل میں ثابت شدہ سرکاری پیمانہ نہیں سمجھا جاتا۔
دوسری جانب دستیاب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیکیج فارن ملٹری فنانسنگ کے ذریعے مالی اعانت حاصل کرے گا، جس کے تحت اسرائیل امریکی ساختہ ہتھیار خریدنے کے لیے امریکی مالی معاونت استعمال کرتا ہے۔رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ منتقلی پر امریکی کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو بھی آگاہ کیا جا چکا ہے، جبکہ بعض ارکانِ کانگریس نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔