اسلام آباد: وزارت خزانہ کی ماہانہ معاشی آؤٹ لک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملکی معیشت استحکام کے مرحلے سے نکل کر بحالی کی جانب بڑھ رہی ہے، تاہم عالمی سطح پر تیل کی بلند قیمتیں اب بھی ایک اہم چیلنج ہیں۔رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران زراعت، مینوفیکچرنگ اور بڑی صنعتوں کے شعبوں میں بہتری کے نمایاں اشارے سامنے آئے ہیں۔
گاڑیوں کی پیداوار اور سیمنٹ کی ترسیل میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق ترسیلات زر اور آئی ٹی برآمدات میں اضافے کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی آئی، جبکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر کے دوران مہنگائی کی شرح 10 سے 11 فیصد کے درمیان رہی، جبکہ آئندہ چند ماہ میں بھی افراط زر نسبتاً بلند سطح پر برقرار رہنے کا امکان ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق مہنگائی کے اثرات کم کرنے اور کم آمدن والے طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ٹارگٹڈ فیول ریلیف اسکیم بھی جاری ہے۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔