واشنگٹن: امریکی ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کے مطابق قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں اب تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی، جبکہ اہم معاملات پر دونوں فریقوں کے مؤقف میں اختلاف برقرار ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے مذاکرات میں آبنائے ہرمز اور امریکی بحری ناکہ بندی کے معاملے کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔
، جبکہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے قابلِ عمل اور ٹھوس رعایتوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ایگزیوس کے مطابق ایران نے سابق مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کی جانب واپسی اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب دونوں ممالک کے مؤقف میں نمایاں فرق موجود ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز کھولنے، امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور جوہری مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک شامل تھا۔ایگزیوس کے مطابق مذاکرات میں تعطل کے باعث دوبارہ فوجی کارروائی کے امکانات سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
بعض امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نومبر میں وسط مدتی انتخابات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔