واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر رواں ہفتے پیش آنے والے فلائی دبئی کے واقعے میں ایران کا ملوث ہونا ثابت ہوا تو تہران کو شدید حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ٹرمپ نے اماراتی پرواز میں کپتان پر چاقو سے حملے کے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث معاون پائلٹ کا ایران سے تعلق جوڑنے کا عندیہ دیا ہے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ انہیں واقعے سے متعلق بریفنگ دی گئی ہے۔ ان کے مطابق شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ واقعے میں ملوث معاون پائلٹ کے ایران سے روابط ہو سکتے ہیں۔
اس سوال پر کہ آیا ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے معاون پائلٹ کو اس کارروائی کے لیے بھیجا تھا یا وہ خود انتہا پسندی کی جانب راغب ہوا، ٹرمپ نے کہا کہ ایسا ممکن ہے۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر تحقیقات میں ایران کا اس واقعے سے تعلق سامنے آیا تو اس کے خلاف انتہائی سخت فوجی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اس معاملے پر کہہ چکے ہیں کہ معاون پائلٹ کے ایران سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تصدیق کرنا قبل از وقت ہوگا۔تیل کی عالمی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران سے متعلق معاملہ ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ تقریباً اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ تیل نکالا جا رہا ہے۔ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے مزید سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو یا تو ایک انتہائی منصفانہ معاہدہ کرنا ہوگا یا پھر اس کا وجود باقی نہیں رہے گا۔