واشنگٹن: برطانیہ میں قائم امریکی فوجی اڈے کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات سامنے آنے کے بعد امریکا نے فیئرفورڈ ایئربیس پر موجود اپنے B-1 بمبار طیارے واپس امریکا منتقل کر دیے۔امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار کے مطابق برطانیہ کے رائل ایئر فورس فیئرفورڈ اڈے پر تعینات تمام امریکی بمبار طیارے اب امریکا میں موجود اپنے اڈوں پر واپس پہنچ چکے ہیں۔ یہ اقدام ایئربیس پر ممکنہ حملوں کی منصوبہ بندی کے شبہے میں پانچ افراد کی گرفتاری کے بعد سامنے آیا۔
امریکی عہدیدار نے بتایا کہ آپریشنل سکیورٹی کے تقاضوں کے باعث فوجی دستوں اور عسکری اثاثوں کی نقل و حرکت کے بارے میں فوری طور پر معلومات فراہم کرنا ممکن نہیں تھا، تاہم اب فیئرفورڈ ایئربیس سے امریکی بمبار طیاروں کی واپسی کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ B-1، B-2 اور B-52 بمبار طیاروں سے متعلق امریکی فضائی اہلکار دنیا کے کسی بھی حصے میں مطلوبہ اہداف کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ ان طیاروں کو امریکا سے پرواز کرکے بیرونِ ملک مشن مکمل کرنے اور واپس آنے کی صلاحیت بھی حاصل ہے۔
دوسری جانب فیئرفورڈ ایئربیس کے قریب سے حراست میں لیے گئے پانچوں افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ ایران نے بھی مبینہ حملے کی منصوبہ بندی میں کسی قسم کے کردار کی تردید کی ہے۔برطانوی تفتیش کاروں کے مطابق گرفتار افراد کی وینز سے پیٹرول برآمد ہوا، تاہم تلاشی کے دوران کوئی دھماکا خیز مواد نہیں ملا۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔واضح رہے کہ لندن کے شمال مغرب میں واقع فیئرفورڈ ایئربیس پر تقریباً ایک درجن B-1 بمبار طیارے تعینات تھے، جنہیں ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں استعمال کیا گیا تھا۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔