ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر دشمن نے دوبارہ فوجی تصادم کا راستہ اختیار کیا تو اس مرتبہ جواب پہلے سے زیادہ سخت اور بھرپور ہوگا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے غیر ملکی سفیروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ جاری تنازع کا فوجی حل ممکن نہیں۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اگر دوبارہ فوجی کارروائی کی گئی تو ایران اپنی حفاظت کے لیے پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ جواب دے گا۔ 
ان کے مطابق نہ فوجی طاقت سے مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے اور نہ ہی نئی پابندیاں کسی نتیجے تک پہنچا سکتی ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تنازع کے خاتمے کا واحد راستہ انصاف اور مساوات کی بنیاد پر مذاکرات ہیں۔
دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ تہران نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران عباس عراقچی کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق پیش کی گئی تجویز پر امریکا کے ردعمل کا جائزہ لے رہا ہے۔
کاظم غریب آبادی کے مطابق اگر ایران کی جانب سے اس معاملے پر کوئی حتمی جواب تیار کیا گیا تو اسے مناسب سفارتی ذرائع کے ذریعے متعلقہ فریق تک پہنچایا جائے گا۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر کے آخر میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولنے کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔