اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اعلیٰ عدلیہ میں تقرریوں کے معاملے پر اختلافات کے بعد مفاہمت کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور ن لیگ کے سینیٹر رانا ثناء اللہ کی جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں شمولیت کو اسی تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان سامنے آنے والی نئی مفاہمت کے تحت پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ امیدواروں کے ناموں پر دوبارہ غور کیے جانے کا امکان ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور رانا ثناء اللہ کو پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک اور مسلم لیگ (ن) کے رکن شیخ آفتاب احمد کے استعفوں کے بعد جوڈیشل کمیشن کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔
نئی تقرریوں کے بعد بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں حکومتی بنچوں کی نمائندگی کریں گے، جبکہ رانا ثناء اللہ سینیٹ کی جانب سے کمیشن میں شامل ہوں گے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پیپلز پارٹی میں گزشتہ کئی ماہ سے یہ تحفظات پائے جا رہے تھے کہ اعلیٰ عدلیہ میں مختلف عہدوں کے لیے اس کے حمایت یافتہ امیدواروں کی نامزدگیوں کو کمیشن کی مطلوبہ منظوری حاصل نہیں ہو سکی۔
سیاسی حلقوں میں ان تقرریوں کو دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان عدالتی نامزدگیوں کے معاملے پر اختلافات کم کرنے اور باہمی مشاورت کو آگے بڑھانے کی ممکنہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، امیدواروں کے حوالے سے کسی حتمی فیصلے کی تصدیق سامنے آنے کے بعد ہی صورت حال واضح ہو سکے گی۔