کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے امیگریشن کے نظام میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب کسی بھی مسافر کو محض زبانی ہدایت کی بنیاد پر آف لوڈ نہیں کیا جا سکے گا۔ایف آئی اے امیگریشن نے ملک بھر کے ایئرپورٹس، بندرگاہوں اور ڈرائی پورٹس کے لیے 12 صفحات پر مشتمل نیا اسٹینڈنگ آرڈر جاری کردیا ہے۔
جس کا مقصد امیگریشن کے عمل کو باقاعدہ قواعد و ضوابط اور شفاف طریقہ کار کے تحت چلانا ہے۔جاری کردہ دستاویز کے مطابق اسٹینڈنگ آرڈر نمبر 07/2026 فوری طور پر نافذ العمل ہوگا، جبکہ اس کے نفاذ کے بعد 2005 میں جاری کیا گیا سابقہ اسٹینڈنگ آرڈر منسوخ کردیا گیا ہے۔ نئے احکامات کا وقتاً فوقتاً جائزہ بھی لیا جائے گا۔
نئے حکم نامے کے تحت امیگریشن افسران کی عمومی ذمہ داریوں سے متعلق سابقہ ہدایات بھی وہاں تک غیر مؤثر ہوں گی جہاں وہ نئے قواعد سے متصادم ہیں۔دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ امیگریشن سے متعلق فیصلوں کو زبانی احکامات کے بجائے تحریری کارروائی اور ڈیجیٹل ریکارڈ سے منسلک کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ مسافروں کی جانچ پڑتال میں رسک بیسڈ طریقہ کار اپنانے، متعلقہ افسر کی ذمہ داری متعین کرنے اور امیگریشن بیورو مینجمنٹ سسٹم (IBMS) میں مکمل ریکارڈ محفوظ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔نئے اسٹینڈنگ آرڈر کو امیگریشن کے طریقہ کار کو مزید منظم بنانے اور فیصلوں میں شفافیت یقینی بنانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔