نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا، تاہم وفاقی حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھرنوں اور احتجاجی سرگرمیوں سے ملکی معیشت کو بھاری نقصان پہنچتا ہے۔خیبر پختونخوا سے متعلق ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشتگردی پاکستان سمیت پوری دنیا اور خطے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ہمت، بہادری اور ثابت قدمی کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے باعث ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچا، اس لیے عالمی سطح پر پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ملک کو سانحہ جعفر ایکسپریس اور بلوچستان میں مزدوروں کے اغوا اور ہلاکتوں جیسے سنگین واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نئی حکمت عملی پر کام کیا گیا ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں اور ان کی ہدایات پر دہشتگردوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اگست 2025 میں کابل میں پاکستان، چین اور افغانستان کے درمیان سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا تھا، تاہم ان کے مطابق افغان حکام دہشتگردی سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کر سکے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت دیگر دہشتگرد گروہوں کی موجودگی خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔