واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں معاونت سے متعلق اسرائیل کی پیشکش قبول کر لے۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی مدد لینے پر آمادہ ہونا چاہیے۔ اس پر امریکی صدر نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں سعودی عرب کو یہ پیشکش قبول کر لینی چاہیے۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل سعودی عرب کے لیے مددگار ثابت ہوا ہے۔رپورٹس کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز میں ایک سفارتی ذریعے نے اسرائیلی اخبار کو بتایا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی ثالثی کے ذریعے سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے خلاف تعاون فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔ اس اقدام کا ایک مقصد ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا بھی بتایا گیا۔تاہم اطلاعات کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس تجویز کی مخالفت کی۔
کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اسرائیل کے ساتھ اس نوعیت کے تعاون پر سعودی عوام کی جانب سے ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی بیان دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے امریکی عزم کے تحت واشنگٹن کو ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک زیرِ زمین مقام ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کو نشانہ بنانے پر غور کرنا پڑ سکتا ہے۔