وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمین کے لیے سیاسی دباؤ سے آزاد ہوکر دیانت داری اور بے خوفی سے فرائض انجام دینے کے اصول واضح کرتے ہوئے پولیس افسر کی ترقی سے متعلق اپیل مسترد کردی۔عدالت نے سول سرونٹس کے لیے قائداعظم محمد علی جناح کی تقریر کی روشنی میں اصول بیان کیے اور قرار دیا کہ سرکاری ملازمین عوام اور ریاست کے خادم ہیں، انہیں کسی بھی قسم کے سیاسی دباؤ سے متاثر ہوئے بغیر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔
فیصلے کے مطابق حکومتیں، وزرائے اعظم اور وزرا آتے جاتے رہتے ہیں، جبکہ کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کی حمایت یا مخالفت کرنا سرکاری ملازمین کا کام نہیں۔ عدالت نے سیاست دانوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ سرکاری ملازمین کے امور میں مداخلت سے گریز کریں۔عدالت کا کہنا تھا کہ سرکاری معاملات میں سیاسی مداخلت سے بدعنوانی، رشوت ستانی اور اقربا پروری جیسی برائیاں جنم لیتی ہیں۔ سول سرونٹس کو چاہیے کہ وہ حکومتی ذمہ داریاں اخلاقی اصولوں کے مطابق ادا کریں اور اپنی سروس کی ساکھ، وقار، عزت اور دیانت داری برقرار رکھیں۔
ترقی کے معاملے پر عدالت نے واضح کیا کہ کسی سرکاری افسر کو ترقی ملنا اس کا لازمی حق نہیں، البتہ قواعد کے مطابق منصفانہ انداز میں ترقی کے لیے زیر غور آنا اس کا حق ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کسی افسر کی ترقی تین مرتبہ مؤخر ہو جائے تو بھی اسے خودکار طور پر ترقی کا حق حاصل نہیں ہوتا۔
وفاقی آئینی عدالت نے پولیس افسر تنویر احمد طاہر کی ترقی کے لیے دائر اپیل خارج کردی۔ عدالت نے سروس کی مدت سے متعلق معاملے پر انہیں متعلقہ محکمے یا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے رجوع کرنے کی ہدایت بھی کی۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں مداخلت کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔