بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کے روز درجنوں اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے ایرانی سرحدوں تک پرواز کی ہے۔امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی رات کے وقت ایک ممکنہ فوجی مشق کے طور پر کی گئی، جس کے دوران اسرائیلی طیاروں نے عراق اور شام کی فضائی حدود کا استعمال کیا۔
رپورٹس کے مطابق اس فضائی نقل و حرکت کا مقصد مبینہ طور پر تہران کو قوت کا مظاہرہ کرنا اور خبردار کرنا تھا، اور اس پیش رفت سے امریکہ کو بھی پہلے سے اعتماد میں لیا گیا تھا۔مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو اس بات کا ادراک تھا کہ ایرانی فضائی دفاعی نظام ان طیاروں کی نشاندہی کر لے گا۔ 
مبینہ طور پر اس حکمت عملی کا مقصد تہران کو ردعمل پر اکسانا تھا تاکہ جوابی کارروائی کا قانونی جواز حاصل کیا جا سکے۔دریں اثنا، سابقہ بیانات میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایرانی حکومت کی تبدیلی کی ضرورت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے، اور اسرائیل اس مقصد کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔