روس نے یوکرین کے ساتھ جاری تنازع کو حل کرنے کے لیے امریکہ اور یوکرین کے ساتھ التوا کا شکار مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنے پر اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے۔روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے سینئر مشیر یوری اوشاکوف نے اس پیش رفت کی تصدیق سینٹ پیٹرزبرگ میں صدر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد کی ہے۔ اوشاکوف کے مطابق مذاکرات کا اگلا مرحلہ اگلے ماہ شروع ہونے کی توقع ہے۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی اور ان کے یورپی اتحادی فروری میں معطل ہونے والے مذاکرات کی فوری بحالی کے لیے عرصے سے دباؤ ڈال رہے تھے۔ اس کے برعکس، روس مسلسل مذاکرات سے ہچکچاتا رہا ہے، کیونکہ اس کی نظر میں میدانِ جنگ میں اس کا پلہ بھاری ہے، جبکہ یوکرین کو روس کے مسلسل میزائل حملوں کا جواب دینے کے لیے ایئر ڈیفنس انٹرسیپٹرز کی شدید قلت درپیش ہے۔امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں صدر زیلنسکی، فن لینڈ اور ناروے کے سربراہان سے اہم بات چیت کے بعد سینٹ پیٹرزبرگ پہنچے تھے۔
اگرچہ وٹکوف کی پیش کردہ تمام تجاویز کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں، تاہم صدر زیلنسکی کے مطابق اوسلو اجلاس میں یوکرین کی سیکیورٹی ضمانتوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی روک تھام پر گفتگو ہوئی تھی، تاہم روسی مشیر یوری اوشاکوف نے ان تجاویز کو زیادہ سود مند قرار نہیں دیا۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔