پاکستان میں پانی کے مؤثر استعمال کو بڑھانے اور آبی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے آئندہ برسوں میں 50 کھرب روپے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ زیر غور ہے۔ اس منصوبے کا مقصد پانی کے موجودہ استعمال کی کارکردگی کو 40 فیصد سے بڑھا کر 2029 تک 70 فیصد تک پہنچانا ہے۔
پلاننگ کمیشن کی دستاویز میں سیلاب سے نمٹنے کے انتظامات، پانی ذخیرہ کرنے کے لیے نئے آبی ذخائر کی تعمیر اور نہری نظام کو جدید بنانے جیسے اہم منصوبوں پر توجہ دی گئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان منصوبوں کے لیے آئندہ 10 سال کے دوران وفاقی سطح پر تقریباً 18 ارب ڈالر کی مالی معاونت درکار ہوگی۔
اس سرمایہ کاری کو ملک میں پانی کے بہتر انتظام اور آبی وسائل کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔دستاویز میں زیرِ زمین پانی کی مسلسل گرتی ہوئی سطح پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب کے مختلف علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح ہر سال تقریباً 0.5 سے ایک میٹر تک کم ہو رہی ہے، جس سے مستقبل میں پانی کی دستیابی کے مسائل بڑھنے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ شمسی توانائی سے چلنے والے زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے سبسڈی کو زیرِ زمین پانی کے اندراج اور پانی کے پائیدار استعمال سے مشروط کیا جائے، تاکہ پانی کے بے دریغ اخراج کو روکا جا سکے اور آبی ذخائر کو محفوظ بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ مجوزہ فریم ورک میں شہری علاقوں کے کم از کم 25 فیصد آلودہ پانی کو صاف کرکے دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کی سفارش بھی شامل ہے۔ اس اقدام سے پانی کے ضیاع میں کمی لانے اور دستیاب وسائل سے زیادہ مؤثر انداز میں فائدہ اٹھانے میں مدد مل سکتی ہے۔