بھارت کی ریاست اتر پردیش میں پسند کی شادی کی اجازت نہ ملنے پر 19 سالہ لڑکی موبائل فون کے تقریباً 100 فٹ بلند ٹاور پر چڑھ گئی۔ اہلِ خانہ کی رضامندی تک نیچے نہ اترنے کی ضد کرنے والی لڑکی کا بالآخر ویڈیو کال کے ذریعے نکاح پڑھا دیا گیا۔
، جس کے بعد وہ بحفاظت نیچے آگئی۔بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ ضلع بہرائچ میں پیش آیا، جہاں صاحبہ بیگم عرف مہک کا اپنی والدہ کے ساتھ نورالدین سے شادی کے معاملے پر جھگڑا ہوگیا۔ اختلاف کے بعد لڑکی نے موبائل ٹاور پر چڑھ کر شادی کی اجازت ملنے تک نیچے اترنے سے انکار کر دیا۔رپورٹس کے مطابق مہک اور نورالدین ایک دوسرے سے شادی کے خواہش مند تھے، تاہم دونوں خاندان اس رشتے کے حق میں نہیں تھے۔ نورالدین روزگار کے سلسلے میں ممبئی میں موجود تھا، جو بہرائچ سے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر دور ہے۔
اطلاعات کے مطابق مہک تقریباً چار گھنٹے تک ٹاور پر موجود رہی۔ اس دوران پولیس، خواتین اہلکاروں، اہلِ خانہ اور مقامی لوگوں نے اسے بحفاظت نیچے آنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم لڑکی نے مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں ٹاور سے چھلانگ لگانے کی دھمکی بھی دے دی۔
صورتحال کے پیش نظر بالآخر ایک مقامی مسلمان عالم نے ویڈیو کال کے ذریعے دونوں کا نکاح پڑھایا، جس میں نورالدین نے ممبئی سے آن لائن شرکت کی۔ نکاح کے بعد مہک نیچے اترنے پر آمادہ ہوگئی، جس کے بعد خواتین پولیس اہلکاروں نے اسے بحفاظت ٹاور سے اتار لیا۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔