سعودی عرب نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی میں جلد بازی سے گریز کرے اور تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کو مزید وقت دے۔امریکی عہدیدار کے مطابق، سعودی حکام نے ایران کے دورے کے بعد وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا اور ٹرمپ انتظامیہ کو تہران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ سعودی حکام کا کہنا تھا کہ ایران کو امریکا کی جانب سے وسط مدتی انتخابات کے بعد ممکنہ فضائی حملوں پر تشویش ہے، اس لیے فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
سعودی عرب نے امریکا سے درخواست کی ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے مزید مہلت دی جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔دوسری جانب ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکی رابطوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کو خط لکھا ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خط کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق، ایران کی سخت گیر قیادت کے ساتھ براہِ راست رابطے سے سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ان پیش رفتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے معاملے پر ممکنہ فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی بحالی کی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم کسی حتمی معاہدے یا فوجی فیصلے کی تصدیق ان اطلاعات سے نہیں ہوتی۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔