اسلام آباد: دوہری شہریت سے متعلق معلومات چھپانے والے اعلیٰ سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کے لیے حکومت نے اہم قدم اٹھا لیا، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وزیراعظم سے باقاعدہ اجازت طلب کرلی۔تفصیلات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وزیراعظم آفس کو سمری ارسال کرتے ہوئے دوہری شہریت کا ڈیکلریشن جمع نہ کرانے والے افسران کے خلاف کارروائی کے اختیارات مانگ لیے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق تقریباً 3 ہزار اعلیٰ سرکاری افسران میں سے بڑی تعداد نے تاحال مطلوبہ حلف نامے جمع نہیں کرائے، جبکہ اب تک صرف 8 فیصد کے قریب افسران نے اپنی یا اپنے اہلِ خانہ کی غیر ملکی شہریت ظاہر کی ہے۔رپورٹ کے مطابق وزیراعظم سے گریڈ 20، 21 اور 22 کے افسران کے خلاف کارروائی کی اجازت طلب کی گئی ہے۔ مجوزہ اقدامات میں ترقی روکنا، لازمی ریٹائرمنٹ اور ملازمت سے برطرفی جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
وزیراعظم کی منظوری کے بعد متعلقہ افسران کو شوکاز نوٹس جاری کیے جانے کا امکان ہے۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 2,917 سرکاری افسران میں سے 62.5 فیصد نے اب تک حلف نامے جمع نہیں کرائے، جبکہ ڈیکلریشن جمع کرانے والوں میں سے صرف 8.68 فیصد نے غیر ملکی شہریت رکھنے کا انکشاف کیا ہے۔دوہری شہریت سے متعلق ڈیکلریشن جمع نہ کرانے والوں میں مختلف اہم سرکاری محکموں کے افسران شامل ہیں۔
، جن کا تعلق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس، سیکریٹریٹ اور آفس مینجمنٹ گروپس سے بتایا گیا ہے۔سول سرونٹس رولز کے تحت سرکاری افسران کے لیے اپنی اور زیرِ کفالت افراد کی غیر ملکی شہریت سے متعلق معلومات ظاہر کرنا ضروری ہے۔ مجوزہ کارروائی کا مقصد اس ضابطے پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔