برطانوی حکومت نے امیگریشن پالیسی میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے مستقل رہائش (Indefinite Leave to Remain) کے حصول کی عمومی مدت پانچ سال سے بڑھا کر 10 سال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت برطانیہ میں مقیم بیشتر غیر ملکی شہریوں کو مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے اب زیادہ عرصہ انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود کے مطابق نئے امیگریشن نظام میں مستقل رہائش دینے کے لیے درخواست گزاروں کی معاشی کارکردگی، برطانوی معاشرے میں شمولیت، انگریزی زبان پر عبور اور امیگریشن قوانین کی پاسداری کو بنیادی اہمیت دی جائے گی۔

حکومت کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے نئے قواعد کے تحت سالانہ ایک لاکھ 25 ہزار 141 پاؤنڈ سے زیادہ آمدن رکھنے والے مخصوص افراد صرف تین سال میں مستقل رہائش حاصل کرنے کے اہل ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح اہل طبی ماہرین اور بعض سماجی نگہداشت کے شعبوں سے وابستہ کارکنوں کے لیے پانچ سال کی مدت برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔

تاہم کم ہنر مند ملازمتوں سے منسلک بعض تارکین وطن کو مستقل رہائش کے لیے 15 سال تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ غیر قانونی راستوں سے برطانیہ پہنچنے والے افراد کے لیے یہ مدت مزید طویل ہوسکتی ہے۔

ان مجوزہ تبدیلیوں کے اثرات برطانیہ میں مقیم پاکستانی شہریوں پر بھی پڑنے کا امکان ہے، خاص طور پر وہ افراد جو نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس)، سوشل کیئر اور کاروباری شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

دوسری جانب پہلے سے برطانیہ میں موجود اور پانچ سالہ رہائشی مدت مکمل کرنے کے قریب افراد کے حوالے سے صورتحال کا انحصار نئے قوانین کے حتمی نفاذ اور حکومت کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے عبوری ضوابط پر ہوگا۔

برطانوی حکومت کا مؤقف ہے کہ مستقل رہائش کا حق حاصل کرنے کے لیے صرف مقررہ مدت پوری کرنا کافی نہیں ہونا چاہیے بلکہ درخواست گزاروں کو معیشت میں کردار ادا کرنے، معاشرتی انضمام اور ملکی قوانین کی پابندی کے حوالے سے بھی اپنی اہلیت ثابت کرنا ہوگی۔