ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے اور جنگ بندی کے حوالے سے ایک بار پھر مثبت پیش رفت سامنے آنے لگی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بات چیت کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکا کے مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، آبنائے ہرمز کھلی ہے اور مجموعی صورتحال بہتر دکھائی دے رہی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 6 سے 7 ماہ کے دوران کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم، مذاکرات کے حتمی نتائج کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش نہ کی جاتی تو اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال آج مختلف ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سے متعلق خدشات کو تسلیم کرنے سے بعض حلقے گریزاں ہیں۔
ادھر امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس (Axios) کی رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ نئے معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے متحرک ہیں۔ اس عمل میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جنگ بندی برقرار رکھنے اور جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے پسِ پردہ سفارتی رابطوں میں تیزی آئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جے ڈی وینس روزانہ قطر کے وزیراعظم اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سے رابطے میں ہیں، جبکہ وہ مذاکرات کی بحالی کے سلسلے میں محسن رضائی کو خط بھی ارسال کر چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم بات چیت کی رفتار اب بھی سست ہے۔ امریکی صدر فی الحال ایران کے ساتھ سفارتی کوششوں کو ترجیح دے رہے ہیں اور معاہدے کے امکانات تلاش کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس اس سے قبل ایران کے خلاف جنگ کو وسط مدتی انتخابات میں ممکنہ شکست کی ایک بڑی وجہ بھی قرار دے چکے ہیں۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔