جامعہ زکریا:سویڈن میں مقیم ممتازشاعرجمیل احسن کے اعزازمیں شعری نشست

ملتان (بیٹھک سپیشل/ روداد نویس: محمد مختار علی، تصاویر: آدم مختار)سویڈن میں مقیم ملتان کے سپوت ممتاز شاعر ، ادیب ، مترجم اور صحافی محمد جمیل احسن کے اعزاز میں بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہء اردو نے ” یورپ میں اردو زبان و ادب” کے موضوع پر خصوصی لیکچر اور شعری نشست کا اہتمام کیا جس میں ایم فل اور پی ایچ ڈی طلباء و طالبات اور شعبہ اردو کے تمام قابلِ قدر اساتذہ نے شرکت کی۔ اس نشست کی صدارت شعبہ کی صدر نشین ڈاکٹر فرزانہ کوکب نے کی جبکہ نظامت کے فرائض شعبہء اردو کے سینئر استاد ڈاکٹر محمد آصف نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دئیے۔ یاد رہے کہ انہی کی زیرِ نگرانی شعبہ اردو میں جمیل احسن کی شاعری پر ایم فل کا تحقیقی مقالہ زیرِ تکمیل ہے۔آغاز میں ناظم تقریب کی دعوت پر محمد مختار علی نے بطور مہمان اعزاز محمد جمیل احسن کا تعارف اور اسکنڈے نیویا میں اُردو زبان و ادب اور صحافت کے حوالے سے ان کی گراں قدر خدمات پر روشنی ڈالی بعد ازاں صاحب تقریب نے منتخب موضوع پر نہایت فکر افروز اور بلیغ انداز میں گفتگو کی جسے سامعین نے دلچسپی اور انہماک سے سنا اس کے بعد سوال و جواب کے دورانئے میں طلباء و اساتذہ نے ان سے ان کی شاعری کے موضوعات، اسکنڈے نیویا کے تعلیمی و سماجی نظام، یورپ میں اردو ترویج کے امکانات اور وہاں مقیم پاکستانیوں کی معاشرتی و صحافتی سرگرمیوں کے بارے میں دلچسپ اور معانی خیز سوالات کئے۔جمیل احسن نے کہا کہ ہجرت کا تجربہ جہاں ایک تخلیق کار کو نئے امکانات اور معاشی فوائد دیتا ہے وہاں وطن سے دوری اور اپنوں کی رفاقت سے محرومی کا دکھ بھی بے چین رکھتا ہے۔ بقول جمیل احسن
وطن سے دور ادھورے ہمارے خواب نہیں
یہ ہجرتوں کے سفر پھر بھی کامیاب نہیں
ہمیں نے عہد وفا ٹوٹ کر نبھایا تھا
قصور وار بھی ٹھہرے ہیں ہم، جناب نہیں
جمیل احسن سے ان کی منتخب شاعری سنی گئی جس میں سماجی موضوعات پر ان کی منفرد نظمیں اور غزلیں شامل تھیں خاص طور پر ملتان سے متعلق ان کی نظم “ارض ملتان” اور شعرزندگی ہم نے گزاری ہے بڑی شان کے ساتھ ربط ٹوٹا نہیں اپنا کبھی ملتان کے ساتھ پر خوب داد دی گئی۔ آخر میں صدر تقریب ڈاکٹر فرزانہ کوکب نے شعبہ اردو کی جانب سے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور طلباء و طالبات کو شعر و ادب سے وابستہ منتخب و ممتاز شخصیات سے مکالمہ جاری رکھنے کی خوش خبری دی۔ تقریب کی ابتداء میں ملتان کے بین الاقوامی شہرتِ یافتہ شاعر ادیب اور دانشور پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے بھی شرکت کی جبکہ دیگر اساتذہ میں ڈاکٹر خاور نوازش ، ڈاکٹر شازیہ عنبرین، ڈاکٹر حماد رسول ، ڈاکٹر ظفر ہرل ، ڈاکٹر محمد آصف اور دیگر اساتذہ شامل تھے۔ تقریب کے اختتام پر اساتذہ کو جمیل احسن کا پانچواں شعری مجموعہ ” آسودگی” پیش کیا گیا۔آخر میں جمیل احسن صاحب کے چند منتخب اشعار نذر قارئین ہیں۔
زندگی ہم نے تجھے ایسے بسر کرنا ہے !!
جیسے شعلوں نے سمندر پہ سفر کرنا ہے-
فرشتوں نے جسے سجدہ کیا تھا
وہ کل فٹ پاتھ پر مردہ پڑا تھا !
اسے مرنے پہ دنیا پوجتی ہے ۔۔۔ !!
وہ زندہ تھا تو کس کے کام کا تھا-
وہ جو بیٹھے ہیں محبت سے کنارا کر کے
وہ بھلا میرے تو احباب نہیں ہو سکتے !
-چھوٹا سا بادل کا ٹکڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
دھوپ سے کس کس سر کو بچائے
ہوا کے ہاتھ پرندوں کے پر نہیں آتے ۔۔ !
نکل گئے جو وطن سے وہ گھر نہیں آتے
وطن کے خواب ہمیں دور لے اڑے ہیں جمیل
گھروں کو لوٹ کے ہم رات بھر نہیں آتے۔

اپنا تبصرہ لکھیں