اسلامک یونیورسٹی:ڈاکٹر مختار کا ایک اور مبینہ متنازعہ عمل، نئے صدر کے تعیناتی نوٹیفکیشن میں گڑبڑ کا انکشاف

اسلامک یونیورسٹی نوٹیفکیشن تنازع: ڈاکٹر مختار پر سنگین الزامات

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) بطور چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور ایکٹنگ ریکٹر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی مسلسل تنازعات کا شکار ڈاکٹر مختار کا ایک اور مبینہ متنازعہ عمل، ڈائریکٹر ہیومن ریسورس عتیق الرحمان چغتائی کے ذریعے یونیورسٹی کے نئے تعینات ہونے والے صدر سعودی ماہر تعلیم ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کے تعیناتی کے نوٹیفکیشن میں گڑبڑ کا انکشاف تفصیل کے مطابق 29 اپریل کو یونیورسٹی صدر کی تعیناتی کے حوالے سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر احمد کی تعیناتی کا دورانیہ 29 اپریل 2025 سے شروع ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان کے ضوابط کے مطابق مدت ملازمت کا دورانیہ متعلقہ فرد کے ملازمت پر چارج سنبھالنے کے دن سے شروع ہوتا ہے انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر مختار کی ایماء پر نکالے جانے والے نوٹیفکیشن میں غیر قانونی طور پر 29 اپریل سے ان کی مدت مدت شروع کرنے کی وجہ سے ڈاکٹر احمد اپنی چار سالہ قانونی مدت ملازمت پوری نہ کر پائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ عتیق الرحمن چغتائی نے ڈاکٹر مختار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے غلط نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی ماہر تعلیم ڈاکٹر احمد سعد الاحمد تاحال اسلام آباد نہیں پہنچے اور نہ ہی انہوں نے یونیورسٹی کے صدر کے طور پر اپنے منصب کا چارج سنبھالا ہے ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر مختار ہی کے ایما پر عتیق الرحمن چغتائی نے نوٹیفکیشن کے ساتھ صدر جامعہ کی تنخواہ اور مراعات کی تفصیلات بھی لف کر دیں جسے بعد ازاں پبلک کر دیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی آرڈیننس کے مطابق یونیورسٹی صدر جامعہ کا انتظامی سربراہ ہے اور وہ ریکٹر کے احکامات کا کسی صورت پابند نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متنازعہ نوٹیفکیشن کو سعودی مخالف حلقے برادر اسلامی ملک کے ماہر تعلیم کی تضحیک کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جبکہ سعودی عرب کے حامی حلقے بھی اس متنازع نوٹیفکیشن پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے دو برادر اسلامی ممالک کے بیچ دیرینہ تعلقات کو خراب کرنے کی ایک سازش قرار دے رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ سرکاری افسران کی تعیناتی کے نوٹیفکیشن کے ساتھ یہ ایسی تفصیلات لف نہیں کی جاتیں بلکہ یہ الگ سے ایک فائل میں لگا دی جاتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں ملک کی کئی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اور گریڈ 22 کے ملازمین کی تعیناتیوں کے نوٹیفکیشنز جاری ہوئے ہیں تاہم کسی بھی نوٹیفکیشن کے ساتھ اس قسم کی تفصیلات لف نہیں کی گئیں ۔ انہوں نے بتایا کہ بطور چیئرمین ایچ ای سی اور ایکٹنگ ریکٹر ڈاکٹر مختار خود اس سے بھی کہیں زیادہ مراعات اور دیگر فوائد اٹھاتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی مراعات کو کہیں بھی پبلک نہیں کیا، حتیٰ کہ بورڈ آف گورنرز کی میٹنگ کے منٹس میں بھی انہیں پوشیدہ رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی صدر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کی تعیناتی کے نوٹیفکیشن کے ساتھ ڈائریکٹر ایچ آر نے کئی سال پہلے ہونے والی ایک بورڈ میٹنگ کے منٹس کا صفحہ لف کردیا ۔
جس سے یہ تاثر جاتا ہے کہ صدر جامعہ چیئرمین ایچ ای سی اور ریکٹر کے تابعدار بن کر ہی یونیورسٹی کے معاملات چلا سکیں گے اور فی الوقت یہ دونوں عہدے ڈاکٹر مختار کے پاس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر جامعہ یونیورسٹی کے تحریر شدہ قواعد و ضوابط اور یونیورسٹی کے آئین کے پابند ہوتے ہیں اور مشاورت کے لیے آئین میں وضع کردی پلیٹ فارمز پر رجوع کرتے ہیں تاہم وہ اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے بیوروکریٹ اور سیاسی جماعتوں کے آلہ کار یونیورسٹی کے سعودی صدور کے خلاف اس طرح کے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات مختلف فائلوں میں لکھوا دیتے ہیں جس کا خمیازہ یونیورسٹی اور ملک دونوں کو بھگتنا پڑتا ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کے سابق صدر ڈاکٹر ہذال نے یونیورسٹی کو عالمی طرز پر چلایا اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا لیکن اب ڈاکٹر مختار، ڈاکٹر ھذال کے تمام کیے کرائے پر پانی پھیر دینا چاہتے ہیںان کا کہنا تھا کہ اس نوٹیفکیشن کی ایک ایک کاپی صدر پاکستان اور وزیراعظم اور متعلقہ وزراء کے دفاتر میں بھی بھیجی گئی ہے جو کہ ایک شرم ناک اقدام ہے۔ اس سلسلے میں جب یونیورسٹی ترجمان، ڈاکٹر مختار اور عتیق الرحمان چغتائی کا موقف جاننے کے لئے رابطہ کیا گیا تو وہ رابطے میں نہ آ سکے۔

یوٹیوٹ کی ویڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں