اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی پانی کی کھپت خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ
مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کے ساتھ ڈیٹا سینٹرز کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، تاہم ان مراکز کی بڑھتی ہوئی پانی اور بجلی کی ضروریات نے ماحولیاتی ماہرین کے لیے تشویش پیدا کردی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ فار واٹر، انوائیرمنٹ اینڈ ہیلتھ نے خبردار کیا ہے کہ 2030 تک مصنوعی ذہانت سے منسلک ڈیٹا سینٹرز سالانہ اتنی مقدار میں پانی استعمال کرسکتے ہیں۔
جو ایک سال کے دوران ایک ارب سے زائد افراد کی بنیادی گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوگا۔ادارے کی تحقیق کے مطابق 2030 تک دنیا بھر میں اے آئی سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز کی سالانہ بجلی کی کھپت 945 ٹیرا واٹ آور تک پہنچنے کا امکان ہے۔
یہ مقدار پاکستان، بنگلہ دیش اور نائیجیریا کی مجموعی سالانہ بجلی کی کھپت سے تقریباً تین گنا زیادہ بنتی ہے، جبکہ ان تینوں ممالک کی مجموعی آبادی 65 کروڑ سے زائد ہے۔رپورٹ میں اے آئی انفراسٹرکچر کے لیے درکار زمین کے رقبے میں بھی نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اندازے کے مطابق 2030 تک اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے درکار رقبہ 5,600 مربع میل سے تجاوز کرسکتا ہے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.