پمز سانحہ: نومولود بچوں کی ہلاکت پر فوجداری تحقیقات، معطل افسران کے بیانات ریکارڈ ہونے لگے
اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے پر فوجداری تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے واقعے کے بعد معطل کیے گئے افسران کے بیانات قلمبند کرنا شروع کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز سمیت تمام 8 معطل افسران سے تحقیقات کے سلسلے میں بیانات لیے جائیں گے۔
وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر صحت اور سیکرٹری صحت کے لیے پمز ہسپتال میں عارضی دفاتر بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔سیکرٹری صحت نے ہسپتال میں انتظامی افسران کے اجلاس کی صدارت کی اور انتظامیہ کو اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ مریضوں کو بہتر علاج کی فراہمی اور ان کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال بھی کل پمز ہسپتال میں انتظامیہ کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اجلاس میں ہسپتال کی صورتحال کے علاوہ نئی ایمرجنسی کے افتتاح سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔واضح رہے کہ پمز ہسپتال میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے۔
، جس کے بعد حکام نے سخت کارروائی کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا تھا۔دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے پمز آتشزدگی کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک نومولود بچے کو بچانے والی نرس رضیہ نورین سے ملاقات کی تھی۔
وزیراعظم نے نرس کی بہادری کو سراہتے ہوئے انہیں قوم کی بیٹی اور قوم کا فخر قرار دیا۔ رضیہ نورین نے وزیراعظم ہاؤس مدعو کیے جانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنے لیے اعزاز اور عزت افزائی قرار دیا۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.