نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس سے متعلق تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا: ذرائع
ایک اہم سرکاری عہدیدار نے کہا ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق جاری بحث کا مقصد کسی مخصوص صوبے یا علاقے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ نظامِ حکمرانی کو مزید مؤثر اور عوام دوست بنانا ہے۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سینئر سرکاری افسر نے بتایا کہ حکومت نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ ملک میں مزید صوبے قائم کیے جائیں۔
، نئے انتظامی یونٹس بنائے جائیں یا ضلعی اور مقامی حکومتوں کو مزید اختیارات منتقل کیے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں کسی خاص صوبے یا خطے کو ہدف بنانے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔ اصل توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں ایسی کیا اصلاحات کی جاسکتی ہیں۔
جن سے حکمرانی کا معیار بہتر ہو اور عام شہریوں کو براہ راست سہولت مل سکے۔سرکاری عہدیدار کے مطابق صوبوں اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق یہ بحث ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اس لیے یہ تاثر دینا درست نہیں کہ حکومت نے پہلے ہی کسی ایک ماڈل کا انتخاب کرلیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ نئے صوبے تشکیل دیے جائیں گے، انتظامی یونٹس قائم ہوں گے یا اختیارات کو مزید نچلی سطح پر، یعنی ضلع اور مقامی حکومتوں تک منتقل کیا جائے گا۔ حتمی فیصلہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.