خستہ حال اسکولوں میں تدریسی عمل روکنے کا حکم، تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا معائنہ شروع
پشاور: دیر کالونی اسکول سانحے کے بعد محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا نے سرکاری اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں سے متعلق اہم اقدامات کرتے ہوئے ایسی عمارتوں میں تدریسی سرگرمیاں فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔محکمہ تعلیم نے تمام ضلعی ایجوکیشن افسران (ڈی ای اوز) اور اسکول پرنسپلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں خستہ حال اسکولوں کی نشاندہی کرکے تفصیلی رپورٹس جمع کرائیں۔ حکام کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ متاثرہ عمارتوں میں کلاسز بند ہونے کی صورت میں طلبہ کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے متبادل انتظامات کیے جائیں۔
محکمہ تعلیم کے ابتدائی سروے میں صوبے کے مختلف اضلاع میں متعدد اسکولوں کی عمارتوں اور کلاس رومز کی حالت خراب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔سروے کے مطابق ضلع ہری پور میں طالبات کے تین اسکولوں جبکہ لوئر دیر میں طلبہ کے تین اسکولوں کی عمارتیں انتہائی خستہ حال قرار دی گئی ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکوں کے دو اسکولوں کے 25 کمرے خراب حالت میں پائے گئے، جبکہ چارسدہ میں طالبات کے تین اسکولوں کے 15 کلاس رومز کی حالت بھی تشویش ناک قرار دی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق لکی مروت میں لڑکوں کے دو اسکولوں کے چار کمرے، بونیر کے ایک اسکول کے چھ کمرے، مردان کے دو اسکولوں کے چار کمرے اور کرک کے ایک اسکول کے دو کمرے خستہ حال یا ناقابلِ استعمال قرار دیے گئے ہیں۔
حکومت خیبرپختونخوا نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں میں کسی بھی قسم کی خطرناک صورتِ حال کی نشاندہی کرکے متعلقہ حکام کو آگاہ کریں۔حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد طلبہ اور اساتذہ کی حفاظت یقینی بنانا اور غیر محفوظ عمارتوں میں تدریسی سرگرمیوں کے باعث ممکنہ حادثات سے بچاؤ ہے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.