28ویں آئینی ترمیم پر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیں گے، اعظم نذیر تارڑ
وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ بٹھا کر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ فی الحال 28ویں آئینی ترمیم کا کوئی مسودہ تیار نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی اور باہمی اتفاق رائے کے بعد ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق معاملہ زیر بحث آیا تھا۔بیرسٹر علی ظفر کے مطابق اجلاس میں بعض ارکان نے رائے دی کہ عمران خان کی رہائی کے بدلے مجوزہ آئینی ترمیم پر غور کیا جانا چاہیے، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
پی ٹی آئی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ اگر 28ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں کوئی ریلیف ملنے کا امکان ہو تو اس پر ضرور غور کیا جانا چاہیے۔سیاسی حلقوں میں مجوزہ آئینی ترمیم کے حوالے سے مشاورت اور مختلف جماعتوں کے مؤقف کو اہمیت دی جا رہی ہے، تاہم ترمیم کے مندرجات اور مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں حتمی صورتِ حال سامنے آنا ابھی باقی ہے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.