پاکستان میں چینی نجی شعبے کی جانب سے اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کے منصوبے کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کی مالیت 3.5 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات نے سی پیک کے تحت بزنس ٹو بزنس (B2B) فریم ورک کے ذریعے اس بڑے منصوبے کی منظوری دی۔
، جبکہ اسلام آباد میں قائم چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور سیکرٹریٹ نے بھی منصوبے کی تصدیق کردی ہے۔منظور شدہ منصوبے میں سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کے علاقے دھابیجی میں قائم کیے جانے والے فالکن آئل ریفائنری اینڈ اسٹوریج کمپلیکس کو سی پیک منصوبوں میں شامل کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق بورڈ آف انویسٹمنٹ اس منصوبے کو سی پیک کے جوائنٹ ورکنگ گروپ برائے تعاون کے سامنے پیش کرے گا۔مجوزہ کمپلیکس میں 40 لاکھ ٹن خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ منصوبے کے تحت 50 میگاواٹ کا کیپٹو پاور پلانٹ بھی تعمیر کیا جائے گا۔
ریفائنری میں یورو-5 معیار کے مطابق ایندھن تیار کرنے کا منصوبہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے پاکستان کی مقامی ریفائننگ صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور تیار شدہ پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔