اسلام آباد ہائیکورٹ میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے عدالتی نظام کو مزید ڈیجیٹل بنانے کے اقدامات شروع کردیئے گئے ہیں، جس کے تحت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی عدالت کو مکمل ای کورٹ اور پیپر لیس کردیا گیا ہے۔چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی عدالت میں عدالتی امور کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کردیا گیا،۔
جبکہ کمرہ عدالت میں جدید اسکرینیں نصب کرکے ڈیجیٹل سماعتوں کا آغاز بھی کردیا گیا ہے۔نئے ای کورٹ نظام کے تحت کیس مینجمنٹ، آن لائن سماعت اور ڈیجیٹل ریکارڈ سمیت مختلف سہولیات استعمال کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد عدالتی کارروائی کو زیادہ منظم بنانا اور کاغذی ریکارڈ پر انحصار کم کرنا ہے۔
ڈیجیٹل سماعت کے موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ڈپٹی اٹارنی جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد منظور ججہ بھی عدالت میں موجود تھے۔پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد منظور ججہ نے کہا کہ عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مقدمات کی کارروائی کو مزید شفاف اور تیز بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وکلا اور سائلین کے لیے عدالتی معلومات تک آن لائن رسائی کی سہولت بھی فراہم کی جارہی ہے۔وکلاء کے مطابق عدالتی امور میں ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال انصاف کی فراہمی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔