حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں پیدا ہونے والے ڈیڈلاک کے خاتمے کے لیے مولانا فضل الرحمان کو ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی ہے، تاہم جے یو آئی کے سربراہ نے اس حوالے سے اپنی شرائط سامنے رکھ دی ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے کردار ادا کرنے کی درخواست پر مولانا فضل الرحمان نے دونوں فریقوں کو واضح کیا ہے کہ وہ پہلے اس بات کا جائزہ لیں گے کہ فریقین مسئلے کے سیاسی حل کے لیے کس حد تک سنجیدہ اور مخلص ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان فریقین کی جانب سے دیے جانے والے جوابات اور ان کے مؤقف کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ ثالثی کا کردار ادا کریں گے یا نہیں۔رپورٹس کے مطابق جے یو آئی سربراہ نے فریقین کو اپنی شرائط سے بھی آگاہ کردیا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت اور اپوزیشن بنیادی معاملات پر کسی مشترکہ نکتے پر متفق ہوجاتے ہیں تو وہ مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔مولانا فضل الرحمان کے مطابق سنجیدہ اور مخلصانہ کوششوں کے ذریعے اب بھی معاملات کا درمیانی راستہ نکالا جاسکتا ہے۔
انہوں نے دونوں فریقوں کو مشورہ دیا کہ اگر ایک دوسرے کے مؤقف کو تسلیم کرنے کی کوشش کی جائے تو اختلافات کم کرنے اور حل تلاش کرنے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی ڈیڈلاک برقرار رہا اور لانگ مارچ کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا گیا تو صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ثالثی کے لیے آمادگی کا عندیہ ملنے کے بعد وزیراعظم اور جے یو آئی سربراہ کے درمیان ملاقات کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔