امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پینٹاگون ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ زیرِ غور منصوبوں میں مسلسل تین روز تک شدید حملے کرنے کے آپشنز بھی شامل ہیں۔
ممکنہ اہداف میں ایران کے میزائل اور ڈرون ذخائر، توانائی کی تنصیبات اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ مراکز شامل ہوسکتے ہیں۔نیو یارک ٹائمز کے مطابق گزشتہ ہفتے کیمپ ڈیوڈ میں نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں اعلیٰ قومی سلامتی حکام نے ان منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ چند ماہ کے دوران ایران اور یمن میں حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشنز سے متعلق پانچ تجاویز مسترد کرچکے ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر نے گزشتہ روز وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر نئے حملوں کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مثبت بات چیت جاری ہے۔
تبصرے
تبصرے صرف مکمل صفحہ پر دیکھے اور کیے جا سکتے ہیں۔