ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ایران کی آمادگی ظاہر کی۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان رابطے میں خطے کی تازہ صورتحال، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حوثیوں کی جانب سے حالیہ حملوں کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان یہ پہلی گفتگو بتائی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ حالیہ واقعے میں سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور 11 افراد زخمی ہوئے۔
سعودی سول ڈیفنس کے مطابق حملے کے بعد ایئرپورٹ کے ٹرمینل فور میں آگ لگ گئی، جس کے باعث فضائی آپریشن معطل کرنا پڑا۔اس سے دو روز قبل بھی کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جن میں 13 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہوئے تھے۔ 
رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بنگلادیش کے ایک مفتی سمیت مصر، اردن، فلسطین، شام، سوڈان، امریکا اور بھارت کے شہری بھی شامل تھے۔