پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے خلاف دائر درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کر دی ہیں۔اس معاملے پر بیرسٹر گوہر خان اور سلمان خان ایڈووکیٹ کی جانب سے الگ الگ درخواستیں دائر کی گئی ہیں، جن میں وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزاروں نے فیڈریشن آف پاکستان، صدرِ مملکت، وزیراعظم، گورنر خیبر پختونخوا اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی فریق نامزد کیا ہے۔درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دہشتگردی کو جواز بنا کر منتخب صوبائی حکومت کے خلاف کارروائی کرنا امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔
درخواست گزاروں کے مطابق بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات اور جانی نقصانات کے باوجود گورنر راج نافذ نہیں کیا گیا، جبکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
درخواستوں میں مزید کہا گیا ہے کہ 2007 سے 2015 کے دوران دہشتگردی کے باوجود خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ نہیں کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف اقدامات اور امن کے قیام کی حمایت کرتی ہے، تاہم مؤثر کارروائی نہ کرنے کے الزامات کو مبینہ طور پر سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات ختم کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔