پیٹرولیم مصنوعات کے بعد اب ایل پی جی کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار بھی تبدیل کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے، جس کے تحت گیس کے نرخ امپورٹ پیریٹی پرائس کے مطابق مقرر کیے جائیں گے۔

سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی ملک میں ایل پی جی کی قلت اور مبینہ ناجائز منافع خوری کے پیش نظر حکومت نے نئی ایل پی جی پالیسی متعارف کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق نئی پالیسی کا بنیادی مقصد بلیک مارکیٹنگ، مصنوعی قلت اور من مانے نرخوں کا خاتمہ کرنا ہے تاکہ مارکیٹ میں مسابقت کو فروغ دیا جا سکے اور صارفین کو سرکاری نرخوں پر ایل پی جی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ سردیوں کے آغاز سے قبل ہی مغربی سرحد پر رکاوٹوں کے باعث ایل پی جی کی فراہمی متاثر ہوئی تھی۔ قیمتوں میں استحکام اور سپلائی بہتر بنانے کے لیے موجودہ کوٹا سسٹم ختم کرکے مسابقتی نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چار بڑے سرکاری ادارے جی ٹو جی اور بی ٹو بی معاہدوں کے تحت ایل پی جی درآمد کریں گے، جبکہ نجی درآمد کنندگان کو بھی کم قیمت پر گیس کی فراہمی اور مارکیٹ میں مقابلے کے لیے سپلائی کا انتظام کرنے کی مکمل آزادی دی جائے گی۔

حکومتی منصوبے میں مستحق اور کم آمدنی والے خاندانوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اہلیت کے معیار کے مطابق 300 سے 350 روپے فی کلو کے حساب سے ایل پی جی فراہم کرنا بھی شامل ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کی ماہانہ کھپت تقریباً 25 لاکھ ٹن، یعنی یومیہ 7 ہزار ٹن ہے، جس کا 70 فیصد حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ، سوئی سدرن اور پارکو کو سعودی عرب اور عمان سے ایل پی جی کی فراہمی کے لیے پیشکشیں موصول ہو چکی ہیں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں زمینی راستوں کے بجائے سمندری راستے سے ایل پی جی درآمد کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔