حکومت کا شوگر ملز مفادات کا تحفظ، گنے کے کاشتکار مایوس
حکومت کی جانب سے ایک بار پھر شوگر ملز کے مفادات کا تحفظ، کاشتکار نظر انداز.
حکومت کی جانب سے ایک بار پھر شوگر ملز کے مفادات کا تحفظ کیا جا رہا ہے جب کہ کاشتکار نظر انداز ہو رہے ہیں۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے قومی اسمبلی کی قائمہ برائے غذائی تحفظ کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ شوگر ملوں پر کرشنگ شروع کرنے کے حوالے سے دباؤ نہیں ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس مل کو جب مناسب لگے وہ کرشنگ شروع کر سکتی ہے۔ ملز نومبر کے پہلے ہفتے چلائیں یا 20 نومبر کو یہ ان کی مرضی ہے۔ پچھلے سال گنے کی 400 سے 700 روپے فی من قیمت تھی۔ آئی ایم ایف معاہدے کے تحت ہم گنے کی قیمت فکس نہیں کر سکتے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پنجاب میں یکم نومبر تک گنے کی فصل تیار ہو جائے گی۔ شوگر ملز کی کوشش ہوتی ہے کہ ہم لیٹ ملیں چلائیں، جس ان کی ریکوری اچھی ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت اور شوگر ملز کے درمیان نومبر کے پہلے ہفتے کرشنگ کا معاہدہ ہوا تھا۔ ، جس پر وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر نے دستخط کیے تھے۔ یوٹیوٹ کی ویڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
baithak
baithak news
today news paper
اردو اخبار-Urdu News Paper
city news
Multan news
Hindi news
breaking news
headlines
head lines
نیوز Pakistan news
Urdu News
Pakistan Urdu News
پاکستان نیوز
bbc news
pakistan news about girl
today news in urdu
afghanistan news
fox news
abc news
شوگر ملز
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین
کاشتکار نظر انداز
گنے کی فصل تیار
پہلے ہفتے کرشنگ کا معاہدہ
تبصرے
Please keep the discussion respectful.