عالمی منڈی میں تیل سستا، مگر پٹرولیم لیوی کے باعث عوام کو مکمل ریلیف نہ مل سکا
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود اس کا مکمل فائدہ عوام تک منتقل نہیں ہو سکا، جس کی ایک بڑی وجہ پٹرولیم لیوی کی بلند شرح قرار دی جا رہی ہے۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی سے قبل فروری 2026 میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 70 سے 76 ڈالر فی بیرل کے درمیان تھی،۔
جبکہ پاکستان میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 285 روپے 17 پیسے تھی۔ اب جنگ بندی کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں دوبارہ اسی سطح پر آ گئی ہیں، لیکن ملک میں پیٹرول کی قیمت 299 روپے 58 پیسے فی لیٹر برقرار ہے، جس سے صارفین کو متوقع ریلیف نہیں مل رہا۔حکومت رواں مالی سال کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں مقررہ ہدف سے زائد وصولیوں کا اعلان بھی کر چکی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1468 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں تقریباً 1498 ارب روپے جمع کیے گئے، تاہم اس کے باوجود لیوی کی وصولی جاری ہے۔مزید برآں، نئے مالی سال کے بجٹ میں پٹرولیم لیوی کی وصولی کا ہدف مزید بڑھا دیا گیا ہے۔
، جس کے باعث تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچنے کے امکانات مزید محدود ہو گئے ہیں۔یاد رہے کہ 28 فروری 2026 کو ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد حکومت نے یکم مارچ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پہلا اضافہ کیا تھا۔
، جس کے تحت پیٹرول 8 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 5 روپے 16 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.