لاڑکانہ میں 15 سالہ خونی قبائلی دشمنی کا خاتمہ، 28 افراد نے ہتھیار ڈال دیے
کراچی: سندھ کے وزیر داخلہ ضیا لنجار نے کہا ہے کہ لاڑکانہ میں 15 سال سے جاری خونی قبائلی دشمنی کا خاتمہ سندھ پولیس کی ایک بڑی کامیابی ہے، جس نے اس معاملے میں تاریخ رقم کی ہے۔وزیر داخلہ کے مطابق جیہو اور دھانی قبائل سے تعلق رکھنے والے ملزمان قانون کے سامنے سرنگوں ہوگئے، جبکہ ہتھیار ڈالنے والوں میں ہیڈ منی والے اشتہاری ملزمان بھی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں قبائل کے مجموعی طور پر 28 افراد نے ہتھیار ڈال کر خود کو قانون کے حوالے کر دیا ہے۔ تمام ملزمان قانونی کارروائی کے تحت عدالتوں میں پیش ہوں گے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ضیا لنجار کے مطابق 15 سالہ قبائلی تنازع کے دوران 25 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، متعدد افراد زخمی ہوئے۔
، جبکہ دشمنی کے باعث تقریباً 2 ہزار ایکڑ زرعی اراضی غیر آباد رہی اور 3 دیہات شدید متاثر ہوئے۔انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ پولیس کی غیرجانبدار، مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی کے نتیجے میں دونوں قبائل نے صلح کی راہ اختیار کی اور خود کو قانون کے سپرد کر دیا۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.