خیبرپختونخوا میں جنگلات کی تیزی سے کٹائی، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں اضافہ
خیبرپختونخوا میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی تشویشناک حد تک بڑھنے لگی ہے، جبکہ ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ جنگلات میں مسلسل کمی کے باعث سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور ماحولیاتی تباہی کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق غیر قانونی درختوں کی کٹائی، زمینوں پر قبضے اور جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات نے صوبے کے قدرتی جنگلات کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔گلوبل فاریسٹ واچ کی رپورٹ کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران خیبرپختونخوا میں تقریباً 4,800 ہیکٹر جنگلات ختم ہو چکے ہیں۔
، جس کے نتیجے میں 1.9 ملین ٹن کاربن کے اخراج میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ضلع مانسہرہ کے علاقے بسالا میں کان کنی کی سرگرمیوں کے باعث جنگلات کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا، جہاں جنگلاتی رقبہ 8.515 ہیکٹر سے گھٹ کر صرف 0.131 ہیکٹر رہ گیا۔
، یعنی تقریباً 98.5 فیصد کمی واقع ہوئی۔دوسری جانب سیکرٹری جنگلات جنید خان کا کہنا ہے کہ صوبے میں کسی بھی مقام پر جنگلات کی کٹائی کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ان کے مطابق صرف نجی ملکیت کی زمین پر ذاتی استعمال کے لیے محدود پیمانے پر لکڑی حاصل کرنے کی اجازت ہے، جبکہ بعض دور دراز علاقوں میں گیس کی سہولت نہ ہونے کے باعث مقامی آبادی اپنی ضرورت کے لیے یہی لکڑی استعمال کرتی ہے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.