گیس سیکٹر کے گردشی قرضے پر آئی ایم ایف کی نئی شرائط، حتمی مذاکرات ستمبر میں ہوں گے

Super Admin


ملک کے گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرضہ تقریباً 3,300 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اسے 1,700 ارب روپے تک کم کرنے کے مجوزہ سیٹلمنٹ پلان پر اتفاق نہ ہو سکا۔ دونوں فریقین کے درمیان حتمی مذاکرات اب ستمبر میں ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل مذاکرات کے دوران گردشی قرضے میں کمی کے منصوبے پر تفصیلی بات چیت ہوئی، تاہم مختلف نکات پر اختلافات کے باعث کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے سیٹلمنٹ پلان کے لیے نئی شرائط بھی پیش کی ہیں۔
آئی ایم ایف کے مطابق گیس کمپنیوں کے مالی نقصانات کو بھی منصوبے کا حصہ بنایا جائے، جبکہ واجب الادا مگر ناقابل وصول رقوم کو بھی نقصانات میں شامل کرکے مالیاتی ریکارڈ میں درج کیا جائے۔آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ مجموعی نقصانات کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے بعد گیس کمپنیوں کی دوبارہ مالی بحالی (Recapitalization) کی جائے تاکہ ان کی مالی پوزیشن مستحکم ہو سکے۔
دوسری جانب پٹرولیم ڈویژن کے حکام نے آئی ایم ایف کی بعض شرائط پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گردشی قرضے کے سیٹلمنٹ پلان پر حتمی پیش رفت اب ستمبر میں متوقع ہے، جبکہ منصوبے کو آئی ایم ایف کی مشاورت سے حتمی شکل دی جائے گی۔

 

شیئر کریں: Facebook WhatsApp X

تبصرے

Please keep the discussion respectful.

0 تبصرے
No comments yet. Be the first to share your thoughts.

Your comment will appear after moderation.