ایران معاہدہ چاہتا ہے مگر سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کر رہا، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران معاہدے کی خواہش تو رکھتا ہے، تاہم اس حوالے سے سنجیدہ طرزِ عمل کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحری جہازوں پر حملے جاری رہے تو ایران کو اس کے نتائج اور بھاری قیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ تہران کو ہونے والے نقصانات میں ہر گزرتی رات کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک ایرانی قیادت اپنی پالیسی پر نظرِثانی نہیں کرتی۔ ان کے بقول صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی واضح ہے کہ ہر اقدام کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران فی الحال کسی جامع معاہدے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا، اگرچہ امید ہے کہ مستقبل میں پیش رفت ممکن ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران متعدد مرتبہ امریکہ سے رابطہ کر چکا ہے، تاہم واشنگٹن کا تاثر یہی ہے کہ تہران ابھی کسی حتمی سمجھوتے کے لیے آمادہ نہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ امریکہ کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔مارکو روبیو نے حوثی باغیوں کی کارروائیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اقدامات خود ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کیا ہے، تاہم آئندہ صورتحال پر نظر رکھی جائے گی اور امید ہے کہ بحری جہازوں پر حملوں کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.