بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا اشتعال انگیز اقدام ہے، مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت ہے: اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اقدام نہایت تشویشناک اور اشتعال انگیز ہے، جس کے اثرات پاکستان کے کروڑوں شہریوں کے مفادات پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کی بنیاد ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق کسی بھی یکطرفہ اقدام سے تقریباً 25 کروڑ پاکستانیوں کے آبی اور معاشی مفادات متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنی سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا، کیونکہ یہی تنازع جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے پلیٹ فارم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے منیلا پلان آف ایکشن 2036 پر مؤثر عملدرآمد کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مضبوط اور مؤثر کثیرالجہتی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.