بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی کارروائیاں فوری روکی جائیں: پاکستان کا مطالبہ
پاکستان نے باب المندب آبنائے میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی مبینہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حوثی ملیشیا سے اشتعال انگیز اقدامات فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔یہ مطالبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران سامنے آیا، جہاں اہم بحری گزرگاہ باب المندب کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات پر دوسری مرتبہ غور کیا گیا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حوثی ملیشیا کو اپنی اشتعال انگیز کارروائیاں فوری طور پر روکنی چاہئیں، کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے بحری سلامتی کے ساتھ ساتھ خطے کے امن اور استحکام کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
اجلاس بحرین کی درخواست پر طلب کیا گیا۔ اس سے دو روز قبل بھی سلامتی کونسل کو باب المندب اور اس کے اطراف کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی تھی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ حوثی گروپ نے یمن کے مغربی ساحلی علاقوں میں اپنی پیش قدمی جاری رکھی ہے اور جنوبی بحیرۂ احمر کے بعض جزائر پر قبضے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل خالد خیاری نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ باب المندب آبنائے اور اس کے گرد و نواح کی صورتحال مسلسل کشیدہ اور غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے۔پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے مزید کہا کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملے سمندری سلامتی کے لیے سنگین چیلنج بن رہے ہیں اور خطے کے ممالک، بالخصوص سعودی عرب، کے امن و ترقی کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہے ہیں۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.