گورنر راج آخری آپشن ہوگا، حکومت تمام آئینی و قانونی راستوں کا جائزہ لے رہی ہے: خواجہ آصف
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سمیت تمام آئینی اور قانونی آپشنز پر غور کر رہی ہے، تاہم گورنر راج حکومت کی ترجیح نہیں بلکہ آخری راستہ ہوگا۔پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ صورتحال کو اس مرحلے تک نہ پہنچنے دیا جائے۔ اگر کوئی دوسرا راستہ باقی نہ رہا تو وفاقی دارالحکومت کو غیر یقینی صورتحال کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہر چند ماہ بعد مبینہ طور پر جتھوں کی صورت میں اسلام آباد کی جانب پیش قدمی اور دارالحکومت پر حملے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق اگر دارالحکومت پر حملہ کیا جاتا ہے تو حکومت کو اس کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ گورنر راج سے متعلق حتمی فیصلہ حالات اور دستیاب آئینی و قانونی راستوں کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔ حکومت اس وقت گورنر راج سمیت تمام ممکنہ آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔
خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا حکومت اور طالبان کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے شواہد موجود ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن طالبان کی اتحادی نہیں بنی، جبکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر انہوں نے دہشت گردی کے معاملے سے لاتعلقی کا الزام عائد کیا۔وزیر دفاع کے مطابق خیبر پختونخوا دہشت گردی سے متاثر ہے، لیکن صوبائی حکومت کے وزیراعلیٰ اور کابینہ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب اہم فیصلے کرنے کا وقت آ گیا ہے اور پورے صوبے کو سیاسی کشمکش کا شکار نہیں بنایا جا سکتا۔خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی وحدت کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا اور خیبر پختونخوا کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے وفاق اور صوبے کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.