پیوٹن کی ایران کو سفارتی تعاون کی پیشکش، امریکا سے کشیدگی کم کرنے پر زور
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے تہران کو سفارتی معاونت کی پیشکش کردی۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر صدر پیوٹن نے کہا کہ روس، ایران کے ساتھ جامع اسٹریٹیجک شراکت داری کے معاہدے کے تحت تعاون جاری رکھے گا۔
روسی صدر نے ایرانی عوام کی جانب سے جارحیت کے مقابلے میں دکھائی جانے والی ثابت قدمی کو ایک اہم اور تاریخی مرحلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی صورتحال نے عالمی سطح پر بھی لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے۔صدر پیوٹن نے ثالثی کے لیے مختلف ممالک کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس موجودہ معاملے کا سفارتی اور پرامن حل چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ ضروری تعاون فراہم کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو مختلف محاذوں پر ایک مکمل جنگ کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق ملک اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے مذاکرات کی کوششیں جاری رکھے گا، تاہم اس دوران مزاحمت کا سلسلہ بھی برقرار رہے گا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ بالآخر مخالفین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے ملکی سطح پر موجود صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور مختلف اداروں و عوام کے درمیان باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔
تبصرے
Please keep the discussion respectful.